شوبز کے ستارے مذہبی سکالرز کی جگہ لیتے ہوئے – ڈی ڈبلیو انٹرویو سید بلال قطب

چیک کے لیے ٹی وی سٹیشن آنے والے مذہبی سکالر کو کم ریٹنگ کا گلہ نہیں کرنا چاہیے۔” سید بلال قطب

showbiz-ramazan

مصنف تنویر شہزاد، ڈی ڈبلیو

پاکستان میں ٹی وی چینلز پر سحری اور افطار کے اوقات میں چلائی جانے والی نشریات میں مذہبی رہنماوں کی جگہ فلم و ٹی وی سے وابستہ ایسے فنکار زیادہ دکھائی دے رہے ہیں، جن کا مذہبی علم زیادہ نہیں تاہم وہ عوام میں مشہور ضرور ہیں۔

’’آج کل مذہبی پروگراموں کو بھی انفوٹینمنٹ کی طرح ہی لیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ان پروگراموں میں آوازیں بکتی ہیں، دعائیں بکتی ہیں، افطاری اور سحری بکتی ہے، آنسو بھی فروخت کیئے جاتے ہیں اور لوگوں کے غم بھی بیچے جاتے ہیں۔‘‘

رواں برس مختلف ٹی وی چینلز کی خصوصی رمضان ٹرانسمیشن میں میزبانی کے فرائض سر انجام دینے والوں میں گلوکار علی حیدر، اداکار و گلوکار فخر عالم، اداکارہ نور، اداکار نور الحسن اور اداکارہ قندیل بھی شامل ہیں۔ سابق گلوکار جنید جمشید، قوال امجد صابری، اور ٹی وی اینکر عامر لیاقت بھی ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشن میں میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ سوال و جواب پر مبنی ایک ٹی وی پروگرام میں اداکار عرفان کھوسٹ، مسعود اختر اور گلوکارہ شبنم مجید بھی باقاعدگی سے سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق حساس مذہبی موضوعات پر کم مذہبی معلومات کے حامل افراد کا بے دریغ اظہار خیال معاشرے میں مذہب کے تاثر کو برے طریقے سے متاثر کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لاہور میں ممتاز دینی دسگاہ جامعہ نعیمیہ کے سربراہ علامہ راغب حسین نعیمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ علماء کی جگہ فنکاروں کا دینی موضوعات پر ان پروگراموں میں رائے دینا مستحسن نہیں ہے۔ ان کے بقول معلومات تو درکنار بعض اوقات دینی پروگراموں کے ان میزبانوں کا دینی الفاظ کا تلفظ تک درست نہیں ہوتا۔

ان کے بقول دینی پروگرام مالی منافع کی بجائے اللہ کی رضا کے لیے اور معاشرے کی بہتری کے لیے ہونے چاہیں اور ریٹنگ کی بہتری کے لیے ان پروگراموں پر کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی رائے میں، ’’ٹی وی چینلز کو ہدیہ دے کر اچھے علمائے کرام کی خدمات ان پروگراموں کے لیے حاصل کرنی چاہیں اور چینل اور اس کے عملے کی “خدمت ” کرنے والے نا اہل مذہبی سکالرز کو بھی ان پروگراموں سے دور رکھنا چاہیے، کچھ چینل مالکان پیسے بچانے کے چکر میں بھی اناڑی ایکسپرٹس کو موقع دے دیتے ہیں‘‘۔

پاکستان کے ایک معروف ٹی وی چینل پر رمضان کی خصوصی نشریات کی میز بانی کرنے والے ایک مذہبی سکالر بلال قطب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’آج کل مذہبی پروگراموں کو بھی انفوٹینمنٹ کی طرح ہی لیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ان پروگراموں میں آوازیں بکتی ہیں، دعائیں بکتی ہیں، افطاری اور سحری بکتی ہے، آنسو بھی فروخت کیئے جاتے ہیں اور لوگوں کے غم بھی بیچے جاتے ہیں، اور تو اور جو مہمان ان پروگراموں میں آتے ہیں ان کو بھی ٹھیکیدار ہی لے کر آتے ہیں۔‘‘

بلال قطب کہتے ہیں کہ دینی پروگراموں کا دینی بیک گراونڈ نہ رکھنے والے لوگوں کے سپرد ہو جانے کے ذمہ دار ہمارے وہ علمائے کرام بھی ہیں ، جو مذہبی پروگراموں کے حوالے سے میڈیا میں پیدا ہونے والے خلا کو پورا نہیں کر سکے۔ ’’انہوں نے اپنے آپ کو دین کی روشنی میں دور جدید کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے تیار نہیں کیا اور لوگ ان کی ایک ہی طرح کی رسمی گفتگو ہمیشہ سننے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘

کیا ٹی وی چینلز کو ریٹنگ سے بالاتر ہو کر مذہبی پروگرام ترتیب دینے چاہیں؟ اس سوال کے جواب میں بلال قطب کہتے ہیں کہ کمرشلائزیشن ریورس نہیں ہو سکتی۔ ’’ہمارے مذہبی رہنماوں کو اپنے آپ جدید تقاضوں کو سمجھنا ہو گا، اچھے عالم دین کی شکل دیکھ کر ہی لوگ ریٹنگ دے دیتے ہیں، چیک کے لیے ٹی وی سٹیشن آنے والے مذہبی سکالر کو دینی پروگراموں کی کم ریٹنگ کا گلہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

Tagged . Bookmark the permalink.

Leave a Reply